حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک نے اپنی ایک رپورٹ میں امریکہ کے حالیہ انتخابات کے نتائج اور کانگریس میں مسلمان اور اسرائیل مخالف نمائندوں کے بڑھتے ہوئے کردار کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے کہ یہ نمائندے اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد اور ایران کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسیوں پر کس حد تک اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات ایسے حالات میں ڈیموکریٹس کے حق میں گئے ہیں جب اس ملک کی خارجہ پالیسی بالخصوص صہیونی حکومت کی غیر مشروط حمایت اور ایران کے خلاف جنگ کو امریکہ کے اندر اور باہر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
ڈیموکریٹس کی کامیابی اور عرب، مسلمان اور ترقی پسند سیاسی شخصیات کی کانگریس میں بڑھتی ہوئی نمائندگی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی بعض پالیسیوں کو چیلنج کرنے کا ایک نیا موقع فراہم کیا ہے۔
اس تبدیلی کی اہمیت صرف امریکی پارلیمان میں نشستوں کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ اصل اہمیت ان سیاسی دھاروں کی قانون ساز ادارے میں آمد ہے جو واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات پر نظرثانی، اسرائیل کے لیے فوجی امداد محدود کرنے اور بیرونی جنگوں پر امریکی عوام کے وسائل خرچ کرنے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ تاہم انتخابات میں کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں تمام سیاسی اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔
امریکہ کے سیاسی نظام میں کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے اختیارات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ صدر اب بھی مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہے اور خارجہ پالیسی اور فوجی کارروائیوں کی قیادت کے حوالے سے اسے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ لہٰذا اگرچہ حکومت کے مخالفین کانگریس میں اکثریت بھی حاصل کرلیں، تب بھی وہ تنہا صدر کے تمام فیصلوں کو روک نہیں سکتے۔
اس کے باوجود کانگریس کے پاس حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے اہم ذرائع موجود ہیں۔ اگر ان اختیارات کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو واشنگٹن کے فوجی فیصلوں اور بیرونی حمایتوں کے اخراجات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
اسرائیل کے لیے فوجی امداد؛ پہلی محاذ آرائی
کانگریس کی نئی ترکیب سے متاثر ہونے والے اہم ترین شعبوں میں سے ایک صہیونی حکومت کے لیے امریکی فوجی امداد ہے۔
واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان فوجی معاہدے کے تحت امریکہ نے 2019ء سے 2028ء تک 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس اعتبار سے سالانہ اوسطاً 3 ارب 80 کروڑ ڈالر کی رقم مختص ہوتی ہے، جس کا بڑا حصہ فوجی مالی معاونت اور صہیونی حکومت کے میزائل دفاعی نظاموں کی مدد پر خرچ کیا جاتا ہے۔
تاہم اہم نکتہ یہ ہے کہ اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ رقم کانگریس کی نگرانی کے بغیر خودکار طور پر ادا کردی جاتی ہے۔ فوجی بجٹ کی منظوری اب بھی قانون سازوں کے بجٹ سے متعلق فیصلوں سے وابستہ ہے۔
تل ابیب کی پالیسیوں کے مخالف نمائندے اس امداد میں کمی کے لیے تجاویز پیش کرسکتے ہیں، اضافی بجٹ کی منظوری کی مخالفت کرسکتے ہیں یا مالی وسائل کی فراہمی کو انسانی حقوق کے قوانین کی پابندی اور امریکی ہتھیاروں کے استعمال پر مخصوص شرائط سے مشروط کرسکتے ہیں۔
اسی طرح قانون ساز اپنے نگرانی کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کی جانب سے امریکی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کرسکتے ہیں اور اسلحے کی برآمدات اور ان کے نتائج کے حوالے سے امریکی حکام کو جواب دہی پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔
البتہ ایسے اقدامات کا مطلب یہ نہیں کہ فوجی امداد لازماً بند ہوجائے گی، کیونکہ قوانین کی منظوری کے لیے دونوں ایوانوں کی حمایت اور بہت سے معاملات میں صدر کی منظوری بھی ضروری ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل کے ناقد نمائندوں کی تعداد میں اضافہ اس معاملے کے سیاسی ماحول کو تبدیل کرسکتا ہے اور تل ابیب کی غیر مشروط حمایت کی سیاسی قیمت بڑھا سکتا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ؛ کانگریس ٹرمپ کے اختیارات کو کس حد تک محدود کرسکتی ہے؟
ایک اور اہم معاملہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے حوالے سے امریکی حکومت کے اختیارات کا ہے۔ یہ مسئلہ وائٹ ہاؤس اور کانگریس کی نئی اکثریت کے درمیان اختلافات کا ایک اہم محور بن سکتا ہے۔
امریکی قوانین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے، فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت دینے اور فوجی کارروائیوں کے لیے بجٹ منظور کرنے کے حوالے سے کانگریس کو اہم اختیارات حاصل ہیں۔ دوسری جانب صدر کو بھی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے فوجی کارروائیوں کی قیادت کے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔
1973ء میں منظور ہونے والے ’’وار پاورز ایکٹ‘‘(War Powers Act) میں بھی صدر کی فوجی کارروائیوں پر کانگریس کی نگرانی کے لیے طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔ اس قانون کی بنیاد پر نمائندے کانگریس کی اجازت کے بغیر فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی تجاویز پیش کرسکتے ہیں یا فوجی تنازعات میں شامل امریکی افواج کی واپسی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
ڈیموکریٹس کے پاس اب یہ موقع موجود ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی تجاویز دوبارہ پیش کریں، جنگ کے لیے مالی وسائل کی فراہمی پر نئی شرائط عائد کریں اور حکومت کو فوجی کارروائیوں کے مقاصد، اخراجات اور قانونی بنیادوں کے بارے میں وضاحت دینے پر مجبور کریں۔
پارلیمانی نگرانی بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ نئی اکثریت وزارتِ دفاع، وزارتِ خارجہ اور انٹیلی جنس اداروں کے حکام کو سماعتوں کے لیے طلب کرسکتی ہے اور ان سے جنگ کے اخراجات، فوجی منصوبوں اور تنازعات جاری رکھنے کے نتائج کے بارے میں جواب طلب کرسکتی ہے۔
تاہم کانگریس کی مخالفت لازماً جنگ کے خاتمے کا باعث نہیں بنے گی۔ صدر ان قوانین کو ویٹو کرسکتا ہے جو اس کے اختیارات کو محدود کرتے ہوں اور اس ویٹو کو ختم کرنے کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کے دو تہائی ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے، جس کا حصول مشکل ہے۔
ڈیموکریٹس کی کامیابی کا مطلب امریکی پالیسی میں مکمل تبدیلی نہیں
کانگریس کی ترکیب میں تبدیلی کے باوجود یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ تمام ڈیموکریٹس اسرائیل، ایران اور امریکی فوجی پالیسیوں کے بارے میں ایک جیسا مؤقف رکھتے ہیں۔
اس جماعت کے اندر مختلف سیاسی رجحانات موجود ہیں۔ بعض ترقی پسند سیاست دان اسرائیل کے لیے فوجی امداد بند کرنے یا محدود کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، کچھ دوسرے انسانی حقوق کی پابندی سے اس امداد کو مشروط کرنے پر زور دیتے ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کا ایک طبقہ اب بھی واشنگٹن اور تل ابیب کے فوجی اتحاد کو برقرار رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔
یہ اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ اگر ڈیموکریٹس پارلیمان میں اکثریت حاصل کر بھی لیں تو اسرائیل مخالف نمائندوں کے مطالبات کو پابند قوانین میں تبدیل کرنے کے لیے جماعت کے دیگر دھڑوں کی حمایت بھی ضروری ہوگی۔
درحقیقت تل ابیب کی پالیسیوں کے مخالف نمائندوں کی تعداد میں اضافہ امریکی حکومت کے سرکاری مؤقف میں فوری تبدیلی کے بجائے تنقید کو زیادہ وسیع پیمانے پر پیش کرنے، سیاسی دباؤ بڑھانے اور بعض فوجی حمایتوں کو محدود کرنے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
جنگی اخراجات سے امریکی عوام کے معاشی مطالبات تک
حکومت کے ناقد سیاسی دھاروں کی کامیابی صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں۔ ان کے مطالبات کا ایک اہم حصہ امریکی شہریوں کے معاشی اور سماجی مسائل سے بھی متعلق ہے۔
ان سیاسی دھاروں کی جانب سے پیش کیے جانے والے وعدوں میں تمام شہریوں کے لیے سرکاری طبی بیمے کی سہولت کو وسعت دینا بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کا مقصد علاج معالجے کے اخراجات کم کرنا، ضروری طبی خدمات تک رسائی فراہم کرنا اور خاندانوں کے طبی قرضوں کا بوجھ کم کرنا ہے۔
اسی طرح ادویات کی قیمتوں کے نظام میں اصلاحات، طبی خدمات اور رہائش کے شعبوں میں سرکاری معاونت میں اضافہ اور بعض فلاحی پروگراموں کے بجٹ میں کمی کو روکنا بھی ان مطالبات میں شامل ہے۔
امریکی خارجہ پالیسی کے ناقدین کا خیال ہے کہ اسرائیل کی فوجی حمایت اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی پر خرچ ہونے والے بھاری مالی وسائل کو صحت، علاج، تعلیم اور عوامی فلاح و بہبود جیسے شعبوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
تاہم ان وعدوں پر عمل درآمد کے لیے بھی قوانین کی منظوری، مالی وسائل کی فراہمی اور کانگریس میں مطلوبہ اکثریت کی حمایت ضروری ہے۔ صرف انتخابی کامیابی ان منصوبوں پر فوری عمل درآمد کی ضمانت نہیں دیتی۔
کانگریس کی نئی ترکیب؛ وائٹ ہاؤس کے لیے محدودیت ضرور مگر سابقہ پالیسیوں کا خاتمہ نہیں
مجموعی طور پر امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج بعض شعبوں میں ٹرمپ حکومت کی سیاسی گنجائش محدود کرسکتے ہیں۔ بجٹ پر کنٹرول، حکومتی کارکردگی کی نگرانی، اسلحے کے معاہدوں کا جائزہ اور وائٹ ہاؤس کی مجوزہ پالیسیوں کی مخالفت ایسے اختیارات ہیں جنہیں اب حکومت کے مخالفین پہلے سے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرسکتے ہیں۔
تاہم امریکی خارجہ پالیسی، بالخصوص ایران اور صہیونی حکومت کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی صرف پارلیمانی اکثریت تبدیل ہونے سے ممکن نہیں۔ امریکہ کا نظامِ اقتدار اس انداز سے تشکیل دیا گیا ہے کہ صدر اب بھی وسیع اختیارات رکھتا ہے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی فیصلہ کن اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
اس تناظر میں حالیہ انتخابات کی اہمیت کو سب سے زیادہ واشنگٹن کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کے مخالفین کی نگرانی اور قانون سازی کی صلاحیت میں اضافے کے حوالے سے دیکھا جانا چاہیے۔ یہ صلاحیت اسرائیل کے لیے امریکی فوجی حمایت کو مزید چیلنجز سے دوچار کرسکتی ہے اور ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنا امریکی حکومت کے لیے زیادہ مہنگا بنا سکتی ہے، تاہم ابھی ان پالیسیوں کے خاتمے کی بات نہیں کی جاسکتی۔










آپ کا تبصرہ